لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
کانٹا ملا تو ضد میں، گُلِ تر بنا دیا
لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا
تھے جس قدر شہاب، گرائے نشیب میں
ذرّوں کو وقت نے، مہ و اختر بنا دیا
جیسے، کنارِ آب کا پودا ہو سخت جاں
صدمات نے، ہمیں بھی ہے پتّھر بنا دیا
تاحشر نفرتوں کا نشانہ رہے، جہاں
ایسی جگہ، مزارِ ستم گر بنا دیا
اِک بات بھی پتے کی، نہ تم نے کہی کبھی
ماجدؔ تمہیں، یہ کس نے سخنور بنا دیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s