دیکھتا گُلشن میں ایسی بھی رُتیں، اے کاش! مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
چند لمحوں کو سہی، ہوتا کبھی بشّاش مَیں
دیکھتا گُلشن میں ایسی بھی رُتیں، اے کاش! مَیں
ہاتھ لگ جائے ستارہ کام کا، شاید کوئی
اپنی آنکھوں میں، لئے پھرتا رہا آکاش میں
گھونسلے اُوپر تلے، کوّوں کے اور چیلوں کے ہیں
باغ میں ایسی ہی کچھ، رکھتا ہُوں بُود و باش میں
حد سے میرے نام جب، بڑھنے لگی تبلیغِ خیر
ہوتے ہوتے جانے کیوں ہونے لگا اوباش مَیں
مُوقلم ماجدؔ مرا، کیوں مدحِ شاہیں میں چلے
فاختاؤں اور چڑیوں کا ہوں جب، نقّاش میں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s