خُدا سمجھتے رہے تھے جِسے صنم نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
نہیں کُچھ ایسا تغافل میں وُہ بھی کم نکلا
خُدا سمجھتے رہے تھے جِسے صنم نکلا
یہاں کے لوگ اذیّت پسند ہیں کیا کیا
مِلے جِسے بھی وُہ گرویدۂ ستم نکلا
وُہی جو قلقلِ خوں میں تھا رقصِ بِسمل کے
کُچھ اپنی لے میں بھی ایسا ہی زیر و بم نکلا
یقیں نہیں ہے پہ حسبِ روایتِ غیراں
جنم ہمارا بھی ہے ناطلب جنم نکلا
سنور گئے ہیں یہاں قصر کیا سے کیا ماجدؔ
مِرے مکان کی دیوار کا نہ خم نکلا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s