حساب ظالم و مظلوم کا برابر ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
دہن میں نیولے کے دیکھئے گا اژدر ہے
حساب ظالم و مظلوم کا برابر ہے
ندی میں برگ پہ چیونٹی ہے اور اِدھر ہم ہیں
کہ جن کے سامنے آلام کا سمندر ہے
سفر میں صبر کی ناؤ ہمیں جو دی اُس نے
ہمارے واسطے سرخاب کا یہی پَر ہے
چلا نہیں گل و مہتاب کو پتہ اتنا
ہمارے گھر بھی کوئی بام ہے کوئی در ہے
ابد تلک کو جو زیبِ سناں ہوا ماجدؔ
نہیں حسینؑ کا شمر و یزید کا سر ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s