تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
جاناں! کبھی تو مژدۂ لطفِ وصال دے
تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے
ہم گمرہی میں، غیر مگر راستی میں فرد
دیتا ہے وُہ، جسے بھی، جو اوجِ کمال دے
سجنے لگے شرر جو سرِ شاخِ آرزو
ایسا ثمر تو باغ میں کوئی نہ ڈال دے
اتنا تو بخش دے ہمیں اخفائے دردِ دل
حدّت وُہ دے جو اشک کو آہوں میں ڈھال دے
ایسا کوئی نہیں کہ جو یُوسف کہے تجھے
چاہے سخن کو جتنا بھی ماجدؔ جمال دے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s