بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
جہاں بھی سرِ انجمن شاہ بولے
بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے
نہ دیکھ اب، یہ باراں کن آنکھوں سے برسی
ملا ہے جو پانی تو سب داغ دھولے
کہیں وُہ، تقاضا یہی ہے وفا کا
بدن تیغ کی دھار پر بھی نہ ڈولے
سمجھ لے وہی راہبر و رہنما ہے
کسی چلنے والے کے بھی ساتھ ہولے
ترے نام کی نم ہے ماجدؔ بس اتنی
بڑھے پیاس تو اپنی پلکیں بھگولے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s