بُھر بُھری مٹی میں ہوں، جیسے جڑیں اُتری ہوئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دل بہ دل ہیں شہر میں، یُوں نفرتیں اُتری ہوئی
بُھر بُھری مٹی میں ہوں، جیسے جڑیں اُتری ہوئی
جا بہ جا چہروں پہ ہے وُہ کم نمائی، اُنس کی
موسمِ سرما میں جیسے، ندّیاں اُتری ہوئی
کیا یہ میرا ہی نگر ہے، اے ہوا! کچھ تو بتا
ساری دیواریں سلامت ہیں چھتیں اُتری ہوئی
تُو بھی اِن کے واسطے، دل میں کوئی گلُداں سجا
ہیں ترے آنگن میں بھی، کچھ تتلیاں اُتری ہوئی
کیا خبر کب دے چلیں ماجدؔ پتہ بارود سا
خامشی میں اب کے، ہیں جو شورشیں اُتری ہوئی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s