اے آسماں! اُتار رذالت کُچھ اور بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کر دے ہمارے نام، خجالت کُچھ اور بھی
اے آسماں! اُتار رذالت کُچھ اور بھی
ہاں کِلکِ خاص بھی ہے تری، لوحِ خاص بھی
کر لے بنامِ خویش، بسالت کُچھ اور بھی
آئے نہیں ہیں بس میں ابھی، ضابطے تمام
سانچے میں اپنے ڈھال، عدالت کُچھ اور بھی
کافی نہیں ہے، تُندیٔ موسم کی تاب ہی
دیکھیں گے پیڑ، زورِ علالت کُچھ اور بھی
کہتی ہے رات مجھ کو نہ کاجل کہو فقط
ماجدؔ وُہ چاہتی ہے، وکالت کُچھ اور بھی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s