یاد تا دیر کریں گے خس و خاشاک مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
اِن کی خاطر ہی ملا دیدۂ نمناک مجھے
یاد تا دیر کریں گے خس و خاشاک مجھے
ٹوٹنا چاہوں اُفق سے نہ ستاروں جیسا
اِتنی عجلت سے بُلائے نہ ابھی خاک مجھے
جب کبھی اِن سے اُجالوں کی ضمانت چاہی
کر گئے اور سیہ روز یہ افلاک مجھے
مَیں کہ سادہ تھا ابھی کورے ورق جیسا ہوں
ہاتھ آئی نہ کہیں صُحبتِ چالاک مجھے
مجھ پہ کھُل پائی نہ جوہڑ کی سیاست ماجدؔ
گرچہ تھا رفعتِ ہر کوہ کا ادراک مجھے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s