ہماری اُس سے مگر، آشنائیاں نہ گئیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
بجا کہ اُس میں جو تھیں کج ادائیاں، نہ گئیں
ہماری اُس سے مگر، آشنائیاں نہ گئیں
کہا تھا اُس نے، بالآخر وُہ آئے گا، لیکن
ہمیں سے ہجر کی رَتیاں، بِتائیاں نہ گئیں
جوان جن سے، دُعاؤں کے طشت میں نکلے
اُن آنگنوں میں، اُن ہی کی، کمائیاں نہ گئیں
کئے ہزار طلب، آسماں سے ابر اِس نے
زمیں کے سر سے مگر، بے ردائیاں نہ گئیں
کلی سے گُل بھی ہوئے ہم، مگر چٹخنے سی
لب و زبان سے ماجد، دُہائیاں نہ گئیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s