انسانوں نے چکّھا ماس انسانوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
ایسا تو اِتلاف، نہ دیکھا جانوں کا
انسانوں نے چکّھا ماس انسانوں کا
حد سے بڑھ کر شائستہ بھی ٹھیک نہیں
انساں، رُوپ بھرے گا یُوں حیوانوں کا
ترکش بھی، کَس بل بھی جس کے پاس ہے وُہ
زور نہ جتلائے کیوں، تیر کمانوں کا
ضعف نہ جائے گا جب تک، جانے کا نہیں
ماجدؔ کھٹکا ہے جو ہمیں تاوانوں کا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s