یاد ستائے خوشبو کے مرغولوں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
پگ پگ دیکھ کے بڑھتی بِھیڑ بگولوں کی
یاد ستائے خوشبو کے مرغولوں کی
یادیں ہیں وُہ اشک بہ اشک کہ آنکھوں میں
اُتری دیکھوں رُت ساون کے جھُولوں کی
مرضی کا برتاؤ اندر والوں سے
باہر والوں سے ہے جنگ اُصولوں کی
شام ڈھلے قبروں کی گنتی لے بیٹھے
جس نے بھی دوکان بنائی پھُولوں کی
قافلہ سالاروں کے دھیان سے لہرائے
آنکھ میں جمعیت سی لنگڑوں لُولوں کی
درباروں میں حضرتِ ذوق کی سازش سے
ہم بھی صف میں ہے نامقبولوں کی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s