ہر ایک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
وہاں فلک پہ ستاروں نے کیا ابُھرنا ہے
ہر ایک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے
نجانے کتنے درندوں کی ہیں کمیں گاہیں
وُہ گھاٹیاں کہ جنہیں ہم نے پار کرنا ہے
کسی نگاہ میں آئے کب اُس کی پامالی
وُہ حسن عید کے دن ہی جِسے نکھرنا ہے
یہ دور وُہ ہے کہ ہر شب کسی خبر نے ہمیں
ہوا کے دوش پہ آ کر اداس کرنا ہے
سکھا دئیے ہیں جو کرتب کسی مداری نے
اَب اُن سے بڑھ کے بھی بندر نے کیا سُدھرنا ہے
ہمیں ہے اُس سے تقاضائے لُطفِ جاں ماجدؔ
وُہ جس کی خُوہی ہر اک بات سے مُکرنا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s