کس کے ہاتھوں آ لگا مجھ کو یہ پتّھر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
کون سا الزام آیا ہے مرے سر، دیکھنا
کس کے ہاتھوں آ لگا مجھ کو یہ پتّھر دیکھنا
خستوں نے کس قدر قامت تمہاری پست کی
رازقو! یہ فرق بھی دل میں اُتر کر دیکھنا
کرچیوں کی شکل میں پلکوں تلک جو آ گیا
یہ مرا دل ہے اسے بھی آئنہ گر! دیکھنا
پھُول سا ہر صبح رکھ لینا اُسے پیشِ نظر
چاند سا ہر دم اُسے اپنے برابر دیکھنا
گھونسلوں میں پھیلتی اِک آبشارِ نغمگی
اور پھر زیرِ شجر بکھرے ہوئے پر دیکھنا
حفظِ جاں کے عُذر کے ہوتے نجانے کس طرف
لے گئی انساں کو ماجدؔ، قوتِ شر دیکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s