کاغذی پھُول ہی پودوں پہ سجائے جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
عیب موسم کے اب اِس طرح چھپائے جائیں
کاغذی پھُول ہی پودوں پہ سجائے جائیں
کھُل کے رہ جائے بھرم اہلِ ستم کا جن سے
لفظ ایسے کبھی ہونٹوں پہ نہ لائے جائیں
ہاتھ اِک خلق کے جیبوں کی طرف جن سے بڑھیں
سارے کرتب وُہ بندریا کو سکھائے جائیں
کیا خبر ذلّتِ پیہم ہی جگا دے اِن کو
شہر کے لوگ نہ کیوں اور ستائے جائیں
جرمِ غفلت کی یہی ایک سزا ہے اَب تو
اپنے پُتلے ہی سرِ عام جلائے جائیں
سادگی اوڑھ کے چہروں پہ بظاہر ماجدؔ
کھوٹ جن جن میں ہے سِکّے وُہ چلائے جائیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s