نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
مجھے ہی ضبطِ تمنّائے دل کی لاج سی
نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی
زبان سے بھی کہو بات جو نگاہ میں ہے
جو حشر دل پہ گزرنا ہے کل وُہ آج سہی
کسی کے نام تو ہونا ہے اِس ریاست کو
خُدا کے بعد تمہارا ہی دل پہ راج سہی
ستم کا نام نہ دیں ہم کسی ستم کو بھی
یہ اہتمام بھی اَب شہر کا رواج سہی
کرو نہ شاخِ بدن سے سروں کے پھُول جُدا
سدا بہار تمہارے ہی سر کا تاج سہی
ہلا نہ لب بھی ستم گرکے سامنے ماجدؔ
جہاں ہیں اور وہاں یہ بھی ایک باج سہی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s