میرا تو سب شہر سے اِک جیسا ناتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
کون نہیں اور کون، کہوں، مجھ کو بھاتا ہے
میرا تو سب شہر سے اِک جیسا ناتا ہے
وقت ہمیں بھی اَب وہ لاڈ دلائے جیسے
نوکر مالک کے بچّے کو بہلاتا ہے
جس کے مُنہ پر جھُوٹ ہے سچّا اُس کو جانو
سچ کہتا ہے جو بھی شخص وُہی جھُوٹا ہے
رُت، جو پھُول لُٹے ہیں شاید پھر لوٹا دے
دل میں باقی ہے تو ایک یہی آشا ہے
ہونٹ ہی حرف و صوت سے کچھ محروم نہیں ہیں
آنکھوں تک میں بھی اِک جیسا سناٹا ہے
کشتی کے پتوار نہ جل ہی سے جل جائیں
ہر راہرو کے ذہن میں ایک یہی چِنتا ہے
کانوں میں پھنکار سی اِک پہنچی ہے، کہیں سے
چڑیوں پر پھر شاید سانپ کہیں جھپٹا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s