میدان کی اِک ہار ہے پہچان ہماری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
اتنی سی سرِ ارض ہے اَب آن ہماری
میدان کی اِک ہار ہے پہچان ہماری
بتلائے کہ سر کون سی دہلیز پہ خم ہو
کر دے کوئی مشکل یہی آسان ہماری
ابجد سے بھی جو پیار کی واقف نظر آئے
سَو جان ہو اُس شخص پہ قربان ہماری
یہ ساغرِ جم بھی ہے اٹا گردِ زماں سے
کیا رہنمائی کرے وجدان ہماری
ہے اِس کی بقا بھی غمِ اولاد کے ناتے
ورنہ ہے کہاں جسم میں اب جان ہماری
نکلے ہی کہاں تخت کی زنجیر سے ماجدؔ
کب آ کے خبر لے کوئی خاقان ہماری
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s