مجھے نکال کبھی کرگسوں سے، چیلوں سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
تلاشِ رزق میں ہر دم پڑے قبیلوں سے
مجھے نکال کبھی کرگسوں سے، چیلوں سے
لگی ہے خِلقتِ آدم تلک خطائے خُدا
پڑا ہے واسطہ جب بھی کبھی رذیلوں سے
ہر عہد میں یہی عنواں حدِ ستم کا ہے
ہتھیلیوں کا تعلق سا ہے جو کِیلوں سے
کسی سے پُوچھئے، جانے اِسے وُہ مِلک اپنی
یہی فریب کرے چاند ساری جھیلوں سے
وُہ دبدبہ ہے ستمگر کا ہر کہیں جیسے
لگا کھڑا ہو وُہی شہر کی فصیلوں سے
نگاہ برق بھی ماجدؔ اُسی پہ پڑتی ہے
پکے جو فصل تو آئے نظر وُہ میلوں سے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s