سُن تو لیتا وُہ مری گو بات بچگانہ سہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
ٹھیک ہے طرزِ کرم اُس بُت کی جانانہ سہی
سُن تو لیتا وُہ مری گو بات بچگانہ سہی
گوہرِ مقصود کی دُھن ہے تو پھر کیا دیکھنا
جو کہے کہہ لے، چلن اپنا گدایانہ سہی
اُس نے کرنا تھا کسی کو تو نظر انداز بھی
بزم میں اُس شوخ کی میں ہی وُہ بیگانہ سہی
جانتے ہیں کچھ ہمِیں، ہے حالِ دل اندر سے کیا
دیکھنے میں ٹھاٹھ اِس بستی کے شاہانہ سہی
سیج تھی شاید کوئی، نَے وصل کی شب تھی کوئی
تم سے تھی منسوب جو ہر بات افسانہ سہی
ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جنوں کی رفعتیں
زیست میں ماجدؔ اگرچہ لاکھ فرزانہ سہی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s