سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
’’مان مجھے‘‘ کی ہانک لگاؤں وقت کا شہ کہلاؤں
سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں
قطرہ ہوں اور دل میں دیکھو دُھن ہے کیا البیلی
بادل بن کر اِک اِک پیاسے کھیت پہ میں لہراؤں
مَیں تیرا ممنون ہوں سُن اے درد رسان زمانے!
گھڑیالوں سا گنگ رہوں گر میں بھی چوٹ نہ کھاؤں
ریت اور کنکر تو ہر رُت میں گرم ہوا برسائے
رات کی رانی عام کہاں میں جس سے تن سہلاؤں
عرش سے اُترا کون فرشتہ میری سُننے آئے
مَیں جو عادل تک کو بھی اکثر مجرم ٹھہراؤں
جان بھی جاتی ہے تو جائے پر یہ کب ممکن ہے
مَیں اور وقت کے پِیروں کے پس خوردے کو للچاؤں
جانے کس کے قرب سے ماجدؔ لاگا روگ یہ مجھ کو
ہر دم ایک ہی خبط ہے میں جھُوٹے کے گھر تک جاؤں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s