زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جتنے رستے ہیں آسان اُسی کے ہیں
زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں
اِک اِک سانس بندھا ہے اُس کی ڈوری میں
یہ پیکر یہ دل اور جان اُسی کے ہیں
وہ چاہے جو صورت اِن کو دے ڈالے
دل میں ہیں جتنے ارمان اُسی کے ہیں
پہنچا ہے جو تتلی تتلی پھُولوں تک
راحت کے سارے سامان اُسی کے ہیں
چھاپ ہے اُس کی ہر اُمید کے خوشے پر
ہر موسم کے دسترخوان اُسی کے ہیں
ہم جیسوں سے آنکھ ملائیں کب ماجدؔ
شہر میں ہیں جو جو ذی شان اُسی کے ہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s