دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
مُبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے
دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے
ابر تا دیر نہ اَب بانجھ رہے گا شاید
حبس کا رنگ یہی موسمی آثار میں ہے
اَب کے اِس جال سے مشکل ہی سے نکلے شاید
صُبحِ اُمید کہ دامانِ شب تار میں ہے
ہر کہیں شور بھی، چیخیں بھی اُٹھیں گی لیکن
کُونج وُہ جس کو بچھڑنا ہے ابھی ڈار میں ہے
آگہی کرب ہے اور اِس کا مداوا مشکل
خار پیوست عجب دیدۂ بیدار میں ہے
کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجدؔ!
یہ جو موہوم سی اُمید دلِ زار میں ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s