خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
زورآور اُس فن کو اپنی ڈھال کہے
خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے
دیکھ رہی ہے ہاتھ دُعا کا بن بن کر
بادل سے کیا اور چمن کی آل کہے
رُخصت ہوتے اُس سے وُہی کُچھ مَیں نے کہا
پیڑ سے جو کچھ ٹوُٹ کے گرتی ڈال کہے
اور بھی کیوں لوٹے جا کر انگاروں پر
کون کسی سے اپنے دل کا حال کہے
یہ بھی کسی کے دل کا نقشہ ہو شاید
تُو جس کو شیشے میں آیا بال کہے
آپ کے حق میں اگلے دن اچّھے ہوں گے
بات یہی ہم سے ہر گزرا سال کہے
دل کی بات تجھی سے جیسا کہتا ہو
فیض کہے ماجدؔ یا وُہ اقبال کہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s