بیچ میں جس کے مایہ کی ہے سانپوں جیسی کاٹ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
پہلی سے پہلی تک دیکھوں دریا کا وُہ پاٹ
بیچ میں جس کے مایہ کی ہے سانپوں جیسی کاٹ
فوم کے نرم گدیلوں پر بھی دل پر نقش ملے
سایہ دار دھریک کے نیچے بان کی سادہ کھاٹ
سامنے جن کے سچ کے ننگا لگتا تھا ہر جھُوٹ
رہ گئے دُور وُہ لوگ پُرانے سیدھے سادھے جاٹ
ہر اُمید کے دامن پر پیوست رہیں ہر آن
درس میں اپنے شامل تھے جو اسکولوں کے ٹاٹ
جس بازار میں جاؤں دُوں مَیں نرخ سے بالا دام
کم اپنے اوزان میں نکلیں ہر تکڑی کے باٹ
قول کے کچّے لوگوں سے نسبت پر کیسا ناز
دھوبی کے کُتّے کا کیا ہے جس کا گھر نہ گھاٹ
سانپ نکل جانے پر ؔ اُس کی پِیٹ لکیر
محرومی کے ہاتھوں لے، بیٹھا انگوٹھے چاٹ
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s