اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
پل پل بُجھتی جس میں اپنی ذات دکھائی دیتی ہے
اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے
صحن چمن میں پہلا ہی سا رقص و سرُود ہوا کا ہے
ہر سُو گرتے پتّوں کی برسات دکھائی دیتی ہے
جانے کس کا خوف ہے جو کر دیتا ہے محتاط ہمیں
ہونٹوں پر اٹکی اٹکی ہر بات دکھائی دیتی ہے
شاخِ طرب سے جھڑنے والی، گردِ الم میں لپٹی سی
صُورت صُورت پیڑ سے بچھڑا پات دکھائی دیتی ہے
سودا ہے درپیش ہمیں جو آن کا ہے یا جان کا ہے
صُورت جینے مرنے کی اک سات دکھائی دیتی ہے
موسمِ دشت میں نم ہو ماجدؔ کب تک آبلہ پائی سے
اَب تو ہمیں اِس رن میں بھی کُچھ مات دکھائی دیتی ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s