ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
ناداری کی لعنت سے ہم عید کے دن بھی الجھے تھے
ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے
چاند ہنسی کا کُہرِ الم میں، چاند سحر کا ٹھہرا تھا
کیا بتلائیں راہ میں اپنی راحت کے کیا رخنے تھے
گرد، ہَوا، خاشاک اور خس کے وہم نے سارے بند کئے
شوخ اور شنگ رُتوں تک جو بھی جانے والے رستے تھے
جوڑ کے شاخ پہ امیدوں کی تنکا تنکا کاوش کا
چڑیوں جیسے خواب سہانے ہم نے بھی کیا دیکھے تھے
سر سے سُورج کے ڈھلنے تک لطف تھے سب ٹھہراؤ کے
پھر تو جانبِ ظلمت بڑھتے ہر خواہش کے سائے تھے
جیون کے وہ سارے موڑ ہی رہ گئے ماجدؔ! دور بہت
آنکھ میں جب کلیوں کی صورت کھلتے سانجھ سویرے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s