کیے لاحق عجب امراض ہم نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
نظر میں پال کر اغراض ہم نے
کیے لاحق عجب امراض ہم نے
ستم کوشی پہ وہ اُترا ہے جب سے
کِیا کیا کچھ نہیں اغماض ہم نے
تقدّس ہی نہ رشتوں میں رہا جب
سنبھالی تب کہیں مقراض ہم نے
بتا دے نیتّوں میں جو بھی کچھ ہو
نہ دیکھا وقت سا نّباض ہم نے
یہ عالم ضبط کا دیکھو کہ ماجدؔ
نہ چہرہ تک کیا غمّاض ہم نے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s