کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
وہ رنگ اپنے سخن میں ہے استعاروں کا
کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا
گلی سے جسم کنول سا نظر پڑا تھا جہاں
گزشتہ رات وہاں جمگھٹا تھا کاروں کا
رمِ حیات کہ بیساکھیوں میں اُترا ہے
کسی کو زعم دکھائے گا کیا سہاروں کا
ورق ورق پہ لکھا حال یُوں سفر کا لگے
گماں ہو خاک پہ جیسے لہو کی دھاروں کا
کھُلے نہ ہم پہ کہ ماجدؔ ہمارے حق میں ہی
رہے ہمیشہ گراں کیوں مزاج یاروں کا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s