کبھی وُہ رُخ بھی سپردِ قلم کیا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
ورق پہ دشتِ طلب کے رقم کیا جائے
کبھی وُہ رُخ بھی سپردِ قلم کیا جائے
فلک سے فصل نے ژالوں کی کب دعا کی ہے
کسی نے کب یہ کہا ہے، ستم کیا جائے
اساس جس کی مسّرت میں التوا ٹھہرے
نہ ہم پہ اور اب ایسا کرم کیا جائے
ستم کشی کہ جو عادت ہی بن گئی اپنی
اِسے نہ رُو بہ اضافہ، نہ کم کیا جائے
ہر ایک سر کا تقاضاہے یہ کہ تن پہ اگر
لگے تو اُس کو بہرحال خم کیا جائے
بہم نہیں ہیں جو موسم کی خنکیاں ماجدؔ
تو کیوں نہ آنکھ کا آنگن ہی نم کیا جائے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s