درس ہے یہ ہمیں ازبر رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
ہونٹ پھولوں کے لبوں پر رکھنا
درس ہے یہ ہمیں ازبر رکھنا
کوئی احساں ہو گراں بار ہے وُہ
سر پہ اپنے نہ یہ پتّھر رکھنا
عفو پرواز دلاتا ہے نئی
ہے بڑی بات یہ شہپر رکھنا
جگ میں رہنا ہے تو پھر سینے میں
دل نہ رکھنا کوئی ساگر رکھنا
عدل ہی کرنے پہ آئے ہو تو پھر
دونوں پلڑوں کو برابر رکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s