اِس قدر کب تھیں ملیں ہم کو سزائیں جتنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہم سے منسوب تھیں بے نام خطائیں جتنی
اِس قدر کب تھیں ملیں ہم کو سزائیں جتنی
زخم بن بن کے اُبھرتی ہیں وُہی چہروں پر
زیرِ حلقوم دبکتی ہیں صدائیں جتنی
مرگِ افکار نہ اِس درجہ کہیں بھی ہو گی
ذہن میں روز بھڑکتی ہیں چتائیں جتنی
سر ہوئے تھے کبھی اِتنے تو نہ عریاں پہلے
آندھیاں لے کے اُڑیں اب کے ردائیں جتنی
داغ تھے زیرِ تب و تاب سبھی پر ماجدؔ
ہم نے دیکھیں سرِ ابدان قبائیں جتنی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s