ہر ایک شہر ہے شیدا اب اُس کے ناؤں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
سخن سرا تھا جو لڑکا سا ایک، گاؤں کا
ہر ایک شہر ہے شیدا اب اُس کے ناؤں کا
ہوا نہ حرفِ لجاجت بھی کامیاب اپنا
چلا نہ اُس پہ یہ پتا بھی اپنے داؤں کا
پسِ خیال ہو بن باس میں وطن جیسے
بہ دشتِ کرب، تصوّر وہی ہے چھاؤں کا
کسے دکھاؤں بھلا میں یہ انتخاب اپنا
گلہ کروں بھی تو اب کس سے آشناؤں کا
تلاشِ رزق سے ہٹ کر کہیں نہ چلنے دیں
ضرورتیں کہ جو چھالا بنی ہیں پاؤں کا
بلک رہا ہوں کہ کہتے ہیں جس کو ماں ماجدؔ
اُلٹ گیا ہے مرا طشت وہ دعاؤں کا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s