کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 112
جذبہ جو لبوں کو پئے اظہار ملا ہے
کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے
اترا ہے یہ ہر صحن میں کس حبس کا موسم
دیکھا ہے جسے شہر میں بے زار ملا ہے
ماتھوں کو جھکائے جو نہ دہلیز پہ اپنی
کب حُسنِ نظر سا کوئی اوتار ملا ہے
دیکھا ہے چلا کر اسے ہم جنس لہو پر
انسان کو جب بھی کوئی اوزار ملا ہے
خطرہ جو پرندے کو سرِ فصل لگا تھا
اب اُس سے نشیمن میں بھی دوچار ملا ہے
ہم شہر میں وہ اہلِ ہنر ہیں جنہیں ماجدؔ
برسوں کی ریاضت کا صلہ نار ملا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s