کس کا رہنے لگا خیال ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
روز و شب ہے یہ کیا ملال ہمیں
کس کا رہنے لگا خیال ہمیں
پھر کوئی شوخ دل کے درپے ہیں
اے غمِ زندگی سنبھال ہمیں
تیغ دوراں کے وار سہنے کو
ڈھونڈنی ہے کوئی تو ڈھال ہمیں
شہ پیادوں سے جس سے مر جائیں
جانے سُوجھے گی کب وہ چال ہمیں
کسمساتا ہے جسم جس کے لئے
ملنے پایا نہ پھر وہ مال ہمیں
بار شاخوں سے جھاڑ کر ماجدؔ
گرد دیتے ہیں ماہ و سال ہمیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s