کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 114
جو دل میں پیڑ کے ہے تا بہ لب نہ لانے دے
کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے
کہ تنگ آ کے ترے منہ پہ تھُوک دوں میں بھی
مجھے نہ اِتنی اذّیت بھی اے زمانے! دے
دیا ہے جسم جِسے تابِ ضرب دے اُس کو
کماں ہے ہاتھ میں جس کے اُسے نشانے دے
نہ جھاڑ گردِ الم تُو کسی کے دامن پر
جو بوجھ جسم پہ ہے جسم کو اُٹھانے دے
ضمیرِ سادہ منش! وہ کہ مکر پر ہے تُلا
ہمیں بھی ہاتھ اُسے کچھ نہ کچھ دکھانے دے
ہوا کا خُبت ہے کیا؟ یہ بھی دیکھ لوں ماجد!ؔ
کوئی چراغ سرِ راہ بھی جلانے دے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s