کب نصیبوں میں اپنے سحر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
گُل تمنّاؤں کے شاخ پر دیکھنا
کب نصیبوں میں اپنے سحر دیکھنا
دیکھنا نطق کلیوں سے چھَنتا ہوا
بے زباں باغ میں ہر شجر دیکھنا
شرط ٹھہری ہے گلشن میں اپنے لئے
کوئی منظر ہو با چشمِ تر دیکھنا
آب جذبوں کی آنکھوں میں سمٹی ہوئی
سیپیوں میں دمکتے گہر دیکھنا
دے گئی اُڑ کے تتلی سکوں کی ہمیں
کُو بہ کُو جھانکنا، در بہ در دیکھنا
دیکھ لینے پہ تجھ عید کے چاند کو
ہم پہ لازم ے بارِ دگر دیکھنا
لوگ ماجدؔ! ہیں معتوب ایسے سبھی
دیکھنا! تم بھی ہو باہنر، دیکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s