پھر بھی ہمیں کیوں جانے زعم خودی کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
ماتھوں پر تو کچھ الٹا ہی ٹیکا ہے
پھر بھی ہمیں کیوں جانے زعم خودی کا ہے
بُعد کا باعث فرق ہے اُس کی نیّت کا
ورنہ اُس سے کیسا وَیر شرِیکا ہے
جن کو اپنا زور جتانا آ جائے
اِس دنیا میں ہر اعزاز اُنہی کا ہے
پچھلے برس بھی آندھی پیڑ اُجاڑ گئی
اب کی بہار بھی رنگ ثمر کا پھیکا ہے
جس کو تم معمولی شخص سمجھتے ہو
وہ ماجدؔ ہے اگلا عہد اُسی کا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s