مگر وُہ بھید مجھ پر کھُل چکا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 131
بدن اُس شوخ کا اِک بھید سا ہے
مگر وُہ بھید مجھ پر کھُل چکا ہے
ہوا میں اَب کے وُہ بّرش ہے جیسے
کوئی آرا سرِ جاں چل رہا ہے
یہ کس کے قرب کا لمحہ گل آسا
سر شاخِ نظر کھلنے لگا ہے
سماعت پر وُہ حرفِ تند اُس کا
کہ جیسے سنگ شیشے پر گرا ہے
یہ سورج کون سے سفّاک دن کا
مرے صحنِ نظر میں آ ڈھلا ہے
پرندہ ہانپتے اُترا تھا جس پر
وُہ دانہ چونچ ہی میں رہ گیا ہے
نہیں گر زہرِ خاموشی تو ماجدؔ!
لبوں پر پھر یہ نیلاہٹ سی کیا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s