منہ پر ترے یہ قصّۂ کرب و بلا ہے کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 126
پھر اور سانحہ کوئی ماجدؔ ہُوا ہے کیا
منہ پر ترے یہ قصّۂ کرب و بلا ہے کیا
مرغانِ خوش نوا کی صدا کیوں بدل گئی
دیکھو تو در قفس کا کسی پر کھُلا ہے کیا
داغی تفنگ کس نے پرندوں کے درمیاں
شورش سی پھر یہ صحنِ چمن میں بپا ہے کیا
دیکھو تو سیلِ آب سے اُکھڑے درخت پر
رہ دیکھتا کسی کی کوئی گھونسلا ہے کیا
ملتا ہے اِس سے زخمِ دروں کو لباسِ حرف
تخلیق میں سخن کی وگرنہ دھرا ہے کیا
دھڑکن لہو کی بانگِ جرس ہو گئی ہے کیوں
پلکوں سے قافلہ کوئی ماجدؔ چلا ہے کیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s