فلک سے فیض کے طالب ہیں پھر شجر اپنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
لُٹا کے حرصِ نمو میں گل و ثمر اپنے
فلک سے فیض کے طالب ہیں پھر شجر اپنے
نظر، خیال، گماں، تشنگی تمّنا کی
نہ آئے لوٹ کے جتنے تھے نامہ بر اپنے
یتیم جیسے جواں ہو کے بھی یتیم رہے
اُسی طرح کے گماں اور وہی ہیں ڈر اپنے
فضا کے دوش سے کس آن پھینک دیں جانے
مسافتوں سے شکستہ یہ بال و پر اپنے
ملا وُہ یار تو دل یوں مچل اُٹھا ماجدؔ
کہ بعدِ عمر مُڑے جیسے کوئی گھر اپنے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s