عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
لبوں پہ گرد ہے اِک زنگ سا زبان پہ ہے
عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے
تمہاری ہاں میں ملائیں گے ہاں نہ کب تک ہم
کچھ اور کوٹئے لوہا ابھی تو سان پہ ہے
نہ اُس شجر کی خبر اِس شجر تلک پہنچے
اِسی خیال سے قدغن ہرِاک اڑان پہ ہے
اُسے یہ ناز ہمارے ہی عجز نے بخشا
بزعمِ خویش قدم جس کا آسمان پہ ہے
پتہ ہے اُس کو نشانوں کے زاویوں کا بھی
وہ جس کی ساری توجہ ابھی کمان پہ ہے
وہ شب کی اوٹ سے کچھ اور ہی نکالے گا
کہ جس کا دھیان دروں پر لگے نشان پہ ہے
اُتر کے دشت میں ماجدؔ رہے نہ یوں شاید
گمان اپنے تحفّظ کا جو مچان پہ ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s