سسکنے لگے پھر شجر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 106
جھڑے مثلِ خس، برگ و بر دیکھنا
سسکنے لگے پھر شجر دیکھنا
فضائے مقاصد کی وسعت اُدھر
اِدھر مُشت بھر بال و پر دیکھنا
خراشوں پہ اِس کی بھی کرنا نظر
یہ دل بھی مرے شیشہ گر دیکھنا
یہی آج کا جام جمشید ہے
ذرا جانبِ چشمِ تر دیکھنا
اُبھرنا وہ اس چاند کا اور وہ
بسوئے اُفق رات بھر دیکھنا
شگفتِ نظر جس کا آغاز ہے
یہ موسم کبھی اَوج پر دیکھنا
کہو کیوں جنوں ہے یہ ماجدؔ تمہیں
جِسے دیکھنا باہُنر دیکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s