ریشم کے لچّھے بھی دیکھو سُوت ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
مکّاری کو کیا کیا ہیں کُرتوت ہوئے
ریشم کے لچّھے بھی دیکھو سُوت ہوئے
خواب ہوئیں پریاں جتنی ایقان کی تھیں
واہمے کیا کیا اپنی خاطر بھُوت ہوئے
رہتے ہیں محصور مسلسل ہلچل میں
امیدوں کے شہر بھی ہیں بیروت ہوئے
جب سے باغ میں رسم چلی پیوندوں کی
سیدھے سادے تُوت بھی ہیں شہتوت ہوئے
منکر ہونے پر ماجدؔ بدنام ہمیں
جبر سہا تو ہم اچّھوں کے پُوت ہوئے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s