رُوٹھا یار مناؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 108
جان لبوں تک لاؤں
رُوٹھا یار مناؤں
مَیں انگناں میں شب کے
گیت سحر کے گاؤں
تپتے صحراؤں پر
ابر بنوں اور چھاؤں
اُجڑے پیڑ ہیں جتنے
برگ اُنہیں لوٹاؤں
خواہش کے ساحل پر
موجوں سا لہراؤں
دُکھتے جسم کو ماجدؔ
کب تک میں سہلاؤں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s