راکھ سی بن کے پھر اُڑے تھے ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 123
تیری دہلیز پر جُھکے تھے ہم
راکھ سی بن کے پھر اُڑے تھے ہم
تن پہ یُوں داغ برّشوں کے نہ تھے
بِن بہاروں کے ہی بھلے تھے ہم
تھا عجب غلغلہ سا بچّوں کا
ڈور کٹنے پہ جب گرے تھے ہم
جتنے اب ہیں گنوا کے دل کا بھرم
اتنے رُسوا کہاں ہوئے تھے ہم
فخر سے خاک تھی سپہر بنی
جانبِ دار جب چلے تھے ہم
اب کھُلا ہے کہ اپنے حق میں بھی
بڑھ کے ابلیس سے بُرے تھے ہم
شاخ وہ حسرتوں کا پیکر ہے
جس پہ ماجد! کبھی کھِلے تھے ہم
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s