دن تھے جو بُرے وہ کٹ رہے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
طوفان غموں کے چھٹ رہے ہیں
دن تھے جو بُرے وہ کٹ رہے ہیں
اُبھرے تھے نظر میں جو الاؤ
اک ایک وہ اب سمٹ رہے ہیں
اِدبار کے سائے جس قدر تھے
اُمید کی ضو سے گھٹ رہے ہیں
اب جاں کا محاذ پُرسکوں ہے
دشمن تھے جو سر پہ ہٹ رہے ہیں
چہروں سے اُڑے تھے رنگ جتنے
ماجدؔ! وہ سبھی پلٹ رہے ہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s