خوئے ستم بھی اُس کی ہی تسلیم ہوئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 120
جس پیکر میں لذّت کی تجسیم ہوئی
خوئے ستم بھی اُس کی ہی تسلیم ہوئی
فائق ہے حق جذبۂ شوق پہ کھیڑوں کا
چاہت کے دستور میں یہ ترمیم ہوئی
ننگی ہو گئیں گھڑیاں زخم اٹھانے کی
ساعتِ لطف کی جس دم بھی تقویم ہوئی
شدّتِ جور سے لوگ ہوئے یوں لب بستہ
ہوتے ہوتے خاموشی تنویم ہوئی
ماجدؔ تجھ کو کیوں شکوہ ہے لوگوں سے
ایسی بھی کیا کم تیری تکریم ہوئی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s