جیسے ہربات میں ہو تیرے بدن کی خوشبو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
لفظ در لفظ ہے یُوں اب کے سخن کی خوشبو
جیسے ہربات میں ہو تیرے بدن کی خوشبو
اذن کی آنچ سے بے ساختہ دہکے ہوئے گال
جسم امڈی ہوئی جس طرح چمن کی خوشبو
نقش ہے یاد پہ ٹھہرے ہوئے ہالے کی طرح
وصل کے چاند کی اک ایک کرن کی خوشبو
گلشنِ تن سے ترے لوٹ کے بھی ساتھ رہی
کُنج در کُنج تھی کیا سرو و سمن کی خوشبو
تجھ سے دوری تھی کچھ اس طرح کی فاقہ مستی
جیسے مُدّت سے نہ آئے کبھی اَن کی خوشبو
ذکرِ جاناں سے ہے وُہ فکر کا عالم ماجدؔ!
جیسے آغاز میں باراں کے ہو بن کی خوشبو
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s