جیسے افواہ کوئی گاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
زہر پھیلا ہے وُہ فضاؤں میں
جیسے افواہ کوئی گاؤں میں
چھین لی تھی کمان تک جس سے
آ گئے پھر اُسی کے داؤں میں
پھر جلی ہے کوئی چِتا جیسے
بُو ہے بارود کی ہواؤں میں
کشتیٔ آرزو گھری دیکھی
جانے کتنے ہی ناخداؤں میں
نت گھمائے جو دائروں میں ہمیں
کیسی زنجیر ہے یہ پاؤں میں
آگ برسی اُسی پرندے پر
دم بھی جس نے لیا نہ چھاؤں میں
اَب تو ماجدؔ سکونِ دل کے لئے
چل کے رہیے کہیں خلاؤں میں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s